روزہ داری (فاسٹنگ) کے حیاتیاتی اثرات
انٹر مٹنٹ فاسٹنگ (IF) کوئی مخصوص غذا نہیں بلکہ کھانے پینے کے اوقات کا ایک ایسا نظام ہے جس میں کھانے اور روزہ رکھنے کے دورانیے متبادل طور پر آتے ہیں۔ اس کے فوائد صرف کیلوریز کم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ روزہ رکھنے سے جسم میں خلیات کی مرمت کا ایک قدرتی عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس عمل میں آٹوفیگی (خلیات کی صفائی)، انسولین کی حساسیت میں بہتری، گروتھ ہارمونز میں اضافہ اور میٹابولک لچک (جسم کی گلوکوز اور چربی کے درمیان ایندھن تبدیل کرنے کی صلاحیت) شامل ہیں۔
اہم حقائق
- 16 سے 18 گھنٹے روزہ رکھنے کے بعد آٹوفیگی (خلیات کی صفائی) کا عمل نمایاں طور پر شروع ہوتا ہے
- 24 گھنٹے کے روزے کے دوران گروتھ ہارمون میں 300 سے 500 فیصد تک اضافہ ہوتا ہے
- صرف 3 دن کھانے کے محدود اوقات (Time-restricted eating) پر عمل کرنے سے انسولین کی حساسیت میں واضح بہتری آتی ہے
- 16:8 کا طریقہ کار (16 گھنٹے روزہ، 8 گھنٹے کھانے کا وقت) سب سے زیادہ تحقیق شدہ اور برقرار رکھنے میں آسان ہے
- اگر کھانے کے اوقات میں پروٹین کا استعمال مناسب ہو تو روزہ رکھنے سے پٹھوں (muscles) کا نقصان نہیں ہوتا
- میٹابولک سوئچنگ (گلوکوز سے کیٹونز کی طرف منتقلی) عام طور پر 12 سے 16 گھنٹے روزہ رکھنے پر ہوتی ہے
آٹوفیگی: خلیات کی دوبارہ سازی کیوں ضروری ہے؟
آٹوفیگی (Autophagy) یونانی زبان کے لفظ ہے جس کا مطلب ہے "خود کو کھانا"۔ یہ وہ عمل ہے جس کے ذریعے خلیات اپنے اندر موجود خراب شدہ حصوں، غیر ضروری پروٹینز اور جراثیموں کو ہضم کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بناتے ہیں۔ یہ عمل mTOR (جو کھانے، خاص طور پر پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس سے متحرک ہوتا ہے) کے ذریعے رک جاتا ہے، جبکہ AMPK (جو روزہ رکھنے کے دوران توانائی کی کمی سے متحرک ہوتا ہے) اسے شروع کرتا ہے۔ یوشینوری اوسومی کو آٹوفیگی کے میکانزم کو سمجھنے پر 2016 میں نوبل انعام دیا گیا تھا۔ آٹوفیگی کے عمل میں خلل پڑنے سے اعصابی امراض (الزائمر، پارکنسن)، کینسر، وقت سے پہلے بڑھاپا اور میٹابولک امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ 16 گھنٹے یا اس سے زیادہ کا روزہ رکھنا اس مرمتی نظام کو متحرک کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔










